ستم کا آشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
کہ شام غم تو کاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا
ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آگئی
وہ اک دیا بجھا تو سینکڑوں دیئے جلا گیا
سکوت میںبھی اس کے اک ادائے دل نواز تھی
وہ یار کم سخن کئی حکائتیں سنا گیا
اب اک ہجوم عاشقان ہے ہر طرف رواں دواں
وہ اک رہ نورد خود کو قافلہ بنا گیا
دلوں سے وہ گزر گیا شعاع مہر کی طرح
گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بناگیا
شریک بزم دل بھی ہیں چراغ بھی ہیں پھول بھی
مگر جو جان انجمن تھا وہ کہاں چلا گیا
اٹھو ستم زدو چلیں یہ دکھ کڑا سہی مگر
وہ خوش نصیب ہے یہ زخم جس کو راس آگیا
یہ آنسووں کے ہار خون بہانہیں ہیں دوستو
کہ وہ تو جان دے کے قرض دوستان چکا گیا